Mery Pass Tum Ho Lyrics in Urdu

About Mery Pass Tum Ho Lyrics in Urdu

Mery Pass Tum Ho broke all the records of hit Dramas in Pakistan during 2019 when it assumes remarkable success for its story based on a societal fact. The uniqueness of the story was the reaction of a husband for his cheating wife. The drama got mixed opinions but was watched by almost everyone in Pakistan. It got popular in the region with the impressed audience from India and Bangladesh too. OST of the drama was also got an equal appreciation for its heartfelt lyrics and soulful vocals. This post includes Mery Pass Tum Ho Lyrics in Urdu. You can read the same in Hindi and Roman English, too.

Song: Mery Pass Tum Ho Title Song
Writer: Khalil-ur-Rehman Qamar
Singer: Rahat Fateh Ali Khan

بھول جانے کا ہنر مجھ  کو سکھاتے جاؤ
  جا رہے ہو تو سبھی نقش مٹاتے جاؤ
 چلو رسماً ہی سہی مڑ کے مجھے دیکھ تو لو
 توڑتے توڑتے تعلق کو نبھاتے جاؤ
کبھی کبھی یہ مجھے ستائے، کبھی کبھی یہ رلائے
کبھی کبھی یہ مجھے ستائے، کبھی کبھی یہ رلائے
 فقط میرے دل سے اتر جائیے گا،
 بچھڑنا مبارک بچھڑ جائیے گا
 کبھی کبھی یہ مجھے ستائے، کبھی کبھی یہ رلائے
 میں  سمجھا تھا تم ہو تو کیا اور مانگوں، میری زندگی میں میری آس تم ہو
 میں  سمجھا تھا تم ہو تو کیا اور مانگوں، میری زندگی میں میری آس تم ہو
 یہ دنیا نہیں ہے میرے پاس تو کیا؟ مرا یہ بھرم تھا میرے پاس تم ہو
 مگر تم سے سیکھا محبت بھی ہو تو دغا کیجیئے گا مکر جائیے گا
 ترا ہاتھ کل تک میرے ہاتھ میں تھا، ترا دل دھڑکتا تھا دل میں ہمارے
یہ مخمور آنکھیں جو بدلی ہوئی ہیں، کبھی ہم نے ان کے ہیں صدقے اتارے
کہیں اب ملاقات ہو جائے ہم سے، بچا کے نظر کو گزر جائیے گا
 جینا ہے ترے بنا ، جینا ہے ترے بنا جینا ہے اب مجھ کو تیرے بنا
 بڑے کم نظر تھے، گنہگار تھے ہم، مگر تیرے دل کو لبھاتے رہے ہیں
 یہی سوچ کر تم بھلا دو خطائیں، تجھے ہم بہت یاد آتے رہے ہیں
 فقط اک ملاقات مانگی ہے تم سے، ملا کر نظر کو گزر جائیے گا
بڑی چال سیدھی ہے روٹھے دنوں کی پلٹ کر کبھی پھر وہ مڑتے نہیں ہیں
 محبت کی ڈوری، وفاؤں کے دھاگے، اگر ٹوٹ جائیں تو جڑتے نہیں ہیں
فقط اک ملاقات مانگی ہے تم سے، ملا کر نظر کو گزر جائیے گا
 کہاں جوڑ پائیں گے ہم دھڑکنوں کو، کہ دل کی طرح ہم بھی ٹوٹے ہوئے ہیں
 کہاں جوڑ پائیں گے ہم دھڑکنوں کو، کہ دل کی طرح ہم بھی ٹوٹے ہوئے ہیں
یہ مانا کہ تم سے خفا ہیں ذرا ہم، مگر زندگی سے بھی روٹھے ہوئے ہیں
 یہی ہم نے سیکھا ہے جرمِ وفا سے، بچھڑ جائیے گا تو مر جائیے گا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *